ابنا: جبکہ خروٹ آباد واقعہ کیلئے عدالتی ٹریبونل کے فیصلے کاانتظارہے، جس کے بعد ایکشن لیا جائیگا۔یہ بات وفاقی وزیرداخلہ رحما ن ملک نے کوئٹہ میں میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت میں کہی۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں گزشتہ سالوں کی نسبت امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان میں تمام معاملات مذاکرات سے حل کرناچاہتی ہے، وہ ایک بارپھرصوبے میں ناراض لوگوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ دشمن عناصرکاآلہ کاربننے کی بجائے ملک وصوبے کی ترقی کیلئے اپناکرداراداکریں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ، پروفیسروں اورسیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانیوالے ایک ہی لوگ ہیں جونہیں چاہتے کہ صوبہ ترقی کرے جنھوں نے پنجابی ہزارہ سندھی اوراب اپنے ہی بلوچ بھائیوں کوقتل کرنا شروع کیاہے تاکہ یہاں ترقی نہ ہو۔انھوں نے کہاکہ ہم سیاسی لوگ ہیں جومعاملات کوبات چیت سے حل کرنے پریقین رکھتے ہیں پہاڑوں پر جانیوالے عناصرجولڑائی کے موڈمیں ہیں اگران کیخلاف اگرمعمولی نوعیت کے کیسزہوئے توانھیں معاف کردیا جائیگا۔ انھوں نے مزیدکہاکہ کراچی میں کافی عرصہ سے پاورآف گیم کامسئلہ چل رہا ہے ہم نے بعض دہشت گردپکڑے ہیں جن کامختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز